پیٹرول مہنگا، ملک بھر میں مہنگائی کی نئی لہر

0

اسلام آباد: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ملک میں مہنگائی کی نئی لہر دیکھنے میں آ رہی ہے، جس کے اثرات روزمرہ زندگی کے تقریباً ہر شعبے پر پڑ رہے ہیں۔

سرکاری دستاویز کے مطابق ایک ماہ کے دوران ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں 12.14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ گاڑیوں کی مکینیکل سروسز بھی ماہانہ 1.29 فیصد اور سالانہ 8.92 فیصد مہنگی ہو گئیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ پیٹرول مہنگا ہونے سے پوسٹل سروسز 2.15 فیصد اور سالانہ بنیادوں پر 14.98 فیصد تک مہنگی ہو چکی ہیں۔

اسی طرح تعلیمی اخراجات میں بھی اضافہ ہوا، جہاں ایک ماہ میں 1.29 فیصد اور سالانہ 8.85 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ قیام و طعام کی سہولیات 2.92 فیصد تک مہنگی ہو گئیں۔

گھریلو استعمال کی اشیاء بھی متاثر ہوئیں، جن میں ڈیٹرجنٹ، پلاسٹک سامان، اسٹیشنری اور فرنیچر شامل ہیں، جبکہ شادی ہالز، گھریلو ملازمین اور ریسٹورنٹس نے بھی قیمتیں بڑھا دیں۔

صحت کے شعبے میں بھی بوجھ بڑھ گیا، جہاں

ادویات: 0.17 فیصد ماہانہ، 6.49 فیصد سالانہ اضافہ
ڈاکٹر فیس: 0.93 فیصد اضافہ
ڈینٹل سروسز: 0.81 فیصد مہنگی
اہم نکات
ٹرانسپورٹ 12.14٪ تک مہنگی
تعلیم، صحت اور رہائش کے اخراجات میں اضافہ
گھریلو اشیاء اور سروسز بھی مہنگی
مہنگائی کا اثر ہر طبقے پر
پس منظر

یہ صرف پیٹرول نہیں — یہ چین ری ایکشن ہے:

پیٹرول مہنگا → ٹرانسپورٹ مہنگی
ٹرانسپورٹ مہنگی → ہر چیز مہنگی
نتیجہ: عام آدمی کی قوت خرید کم

اصل مسئلہ: جب تک انکم نہیں بڑھتی اور صرف اخراجات بڑھتے ہیں، تب تک یہ مہنگائی عارضی نہیں بلکہ سسٹمک مسئلہ بن جاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں