راس تنورہ پورٹ بند ہونے کے بعد پاکستان کا سعودی بندرگاہ سے تیل لینے کا فیصلہ

0

اسلام آباد: راس تنورہ پورٹ بند ہونے کے بعد پاکستان نے بحیرۂ احمر میں واقع سعودی بندرگاہ سے تیل حاصل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق تیل کی سپلائی برقرار رکھنے کے لیے ملکی ریفائنریز اضافی تیل نکالنے کی حکمت عملی تیار کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پیٹرول کی بچت کے لیے ورک فرام ہوم کے آپشن پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

انڈسٹری ذرائع کا کہنا ہے کہ دیگر ذرائع سے ایل این جی حاصل کرنا انتہائی مہنگا ثابت ہو رہا ہے، اسی لیے مہنگی ایل این جی خریدنے کے بجائے بند کنوؤں سے پیداوار بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان پیٹرول کی خریداری سنگاپور مارکیٹ سے کرنے کے آپشن پر بھی غور کر رہا ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی میں کسی قسم کی کمی نہ ہو۔

پس منظر:

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور سعودی عرب کے اہم تیل برآمدی مرکز راس تنورہ پورٹ کی بندش کے بعد خطے کے کئی ممالک اپنی توانائی سپلائی کو محفوظ بنانے کے لیے متبادل ذرائع تلاش کر رہے ہیں۔

اہم نکات:

راس تنورہ پورٹ بند ہونے کے بعد پاکستان کا متبادل انتظام

بحیرۂ احمر میں سعودی بندرگاہ سے تیل لینے کا فیصلہ

مہنگی ایل این جی کے بجائے مقامی پیداوار بڑھانے پر غور

سنگاپور سے پیٹرول خریدنے کی تجویز زیر غور

ممکنہ اثرات:

قلیل مدتی: ایندھن کی سپلائی برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی اقدامات۔

درمیانی مدتی: توانائی کی درآمدی حکمت عملی میں تبدیلی۔

طویل مدتی: پاکستان کو متبادل توانائی ذرائع اور مقامی پیداوار بڑھانے پر توجہ دینا پڑ سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں