واشنگٹن: ایران پر حالیہ حملے کے بعد امریکا میں ایک نئی سیاسی بحث شروع ہو گئی ہے جس میں اس کارروائی کے مقاصد اور اس کے پس منظر پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکی سیاستدانوں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ آیا یہ حملہ واقعی امریکی قومی مفاد کے تحت کیا گیا تھا یا اس کا مقصد اسرائیل کے ممکنہ یکطرفہ حملے کو روکنا تھا۔
امریکی سینیٹر Elizabeth Warren نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل گزشتہ 40 برس سے امریکا کو ایران پر حملہ کرنے کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صدر Donald Trump پہلے امریکی صدر ہیں جنہیں اسرائیل اس حوالے سے قائل کرنے میں کامیاب رہا۔
الزبیتھ وارن نے مزید کہا کہ یہ بھی واضح نظر آتا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم Benjamin Netanyahu اور ڈونلڈ ٹرمپ عوام کی توجہ ایپسٹین فائلوں سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پس منظر:
امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد کیے گئے فوجی اقدامات پر امریکا کے اندر سیاسی حلقوں میں شدید بحث جاری ہے۔ کچھ حلقے اسے سکیورٹی اقدام قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض اسے علاقائی سیاست سے جڑا فیصلہ سمجھتے ہیں۔
اہم نکات:
ایران پر حملے کے بعد امریکا میں نئی سیاسی بحث
سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کارروائی امریکی مفاد میں تھی یا نہیں
سینیٹر الزبیتھ وارن نے اسرائیل کے کردار پر تنقید کی
نیتن یاہو اور ٹرمپ پر توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام
ممکنہ اثرات:
قلیل مدتی: امریکی سیاست میں اس معاملے پر شدید بحث جاری رہنے کا امکان۔
درمیانی مدتی: کانگریس اور سینیٹ میں خارجہ پالیسی پر مزید سوالات اٹھ سکتے ہیں۔
طویل مدتی: امریکا کی مشرق وسطیٰ پالیسی اور اتحادیوں کے ساتھ تعلقات پر اثر پڑ سکتا ہے۔

