لاہور: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پنجاب حکومت نے اشیائے ضروریہ پر ریلیف دینے کیلئے مختلف تجاویز تیار کر لی ہیں۔
ذرائع پنجاب اسمبلی کے مطابق مہنگائی کے اثرات کم کرنے کیلئے حکومت نے متعدد سبسڈی ماڈلز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سہولت بازاروں میں 10 سے 20 فیصد سبسڈی دینے کی تجویز زیر غور ہے تاکہ عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
اس کے علاوہ منڈیوں کے رجسٹرڈ کاروباری افراد کو سبسڈی دینے کا آپشن بھی دیکھا جا رہا ہے، تاہم ابتدائی طور پر سہولت بازار ماڈل کو زیادہ مؤثر قرار دیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق سہولت بازاروں کے ذریعے براہ راست صارفین تک ریلیف پہنچانا آسان ہوتا ہے، جس سے قیمتوں پر فوری اثر ڈالا جا سکتا ہے۔
اہم نکات:
اشیائے ضروریہ پر سبسڈی پلان تیار
سہولت بازاروں میں 10–20٪ سبسڈی کی تجویز
رجسٹرڈ کاروباری افراد کو بھی سبسڈی دینے پر غور
سہولت بازار ماڈل کو زیادہ مؤثر قرار دیا گیا
پس منظر :
یہ پلان اچھا لگتا ہے، مگر اصل مسئلہ یہاں ہے:
سہولت بازار = محدود رسائی (ہر شہری تک نہیں پہنچتا)
سبسڈی = اکثر لیک ہو جاتی ہے یا غلط لوگوں تک پہنچتی ہے
وقتی ریلیف → مگر مہنگائی کی جڑ (فیول + سپلائی چین) وہی رہتی ہے

