واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے ایران کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کے شامل نہ ہونے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
سینیٹر لنزے گراہم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب ایرانی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنی فوج استعمال کرنے سے انکار کر رہا ہے جبکہ ایران خطے میں بدامنی پھیلا رہا ہے اور سات امریکیوں کو قتل کر چکا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ امریکا کو سعودی عرب جیسے ملک کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیوں کرنا چاہیے جو باہمی مفادات کے لیے جنگ لڑنے کے لیے تیار نہیں۔
لنزے گراہم کے مطابق ایران کی جانب سے حملوں کے خدشات کے باعث ریاض میں امریکی سفارت خانے کو خالی کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔
اہم نکات:
سینیٹر لنزے گراہم کا سعودی عرب پر تنقیدی بیان
ایران کے خلاف جنگ میں سعودی فوج کے شامل نہ ہونے پر مایوسی
امریکا اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات پر سوال
ریاض میں امریکی سفارت خانے کے انخلا کا دعویٰ
ممکنہ اثرات:
قلیل مدتی: امریکا اور سعودی عرب کے تعلقات میں سفارتی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
درمیانی مدتی: مشرق وسطیٰ میں اتحادی ممالک کے کردار پر نئی بحث۔
طویل مدتی: خطے میں دفاعی اتحادوں اور سکیورٹی پالیسیوں میں تبدیلیاں ممکن۔

