لودھراں: تیزگام ٹرین حادثے کو 11 گھنٹے سے زائد وقت گزرنے کے باوجود ریلوے ٹریک بحال نہ ہو سکے جس کے باعث ٹرینوں کی آمدورفت شدید متاثر ہے۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ شب آدم واہن کے قریب تیزگام کی 4 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں جس کے نتیجے میں 25 مسافر زخمی ہوئے، جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد سے اپ اور ڈاؤن دونوں ٹریک تاحال بحال نہیں ہو سکے اور بحالی کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
حکام کے مطابق ٹریک کی مکمل بحالی میں مزید 4 گھنٹے لگ سکتے ہیں جبکہ کراچی ایکسپریس اور زکریا ایکسپریس لودھراں اسٹیشن پر کھڑی ہیں۔
ریلوے انتظامیہ نے مسافروں کے لیے متبادل انتظامات کرتے ہوئے انہیں سرکٹ ہاؤس میں ٹھہرایا جبکہ متاثرہ تیزگام ٹرین کو کراچی روانہ کر دیا گیا ہے۔
اہم نکات:
تیزگام کی 4 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں
25 مسافر زخمی، ایک کی حالت تشویشناک
11 گھنٹے بعد بھی ٹریک بحال نہ ہو سکے
کراچی اور زکریا ایکسپریس لودھراں اسٹیشن پر رکی ہوئی ہیں
پس منظر:
پاکستان میں ریلوے حادثات اکثر ٹریک کی خرابی، تکنیکی مسائل یا دیکھ بھال کے فقدان کے باعث پیش آتے ہیں، جس کے بعد نظام کی بہتری اور حفاظتی اقدامات پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔

