عراقی کرد انتظامیہ نے کردوں کو مسلح کر کے ایران بھیجنے کا الزام مسترد کر دیا

0

اربیل: شمالی عراق میں قائم خودمختار کرد انتظامیہ نے اس الزام کی سختی سے تردید کر دی ہے کہ عراق سے کرد جنگجوؤں کو مسلح کر کے ایران بھیجا جا رہا ہے۔

یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ عراقی کردوں نے ایران کے خلاف زمینی حملہ شروع کر دیا ہے۔

عراقی کرد انتظامیہ کے ترجمان نے امریکی دعوؤں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کرد انتظامیہ خطے میں جنگ کو وسعت دینے کی کسی بھی کوشش کا حصہ نہیں ہے بلکہ وہ خطے میں امن اور استحکام کی حمایت کرتی ہے۔

کرد انتظامیہ نے اپنے علاقے پر ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے عراقی حکومت اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ عراقی کرد عوام کو حملوں سے محفوظ رکھنے میں مدد فراہم کریں۔

ادھر عراق کے کرد نژاد صدر عبداللطیف راشد کی اہلیہ اور عراق کی خاتون اول شاناز ابراہیم نے بھی ایک بیان میں کہا کہ خدا کے لیے کردوں کو تنہا چھوڑ دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ 1991 میں عراق میں بغاوت کے بعد بھی کردوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا تھا اور اسی طرح شامی کردوں نے داعش کے خلاف مزاحمت کی مگر بعد میں انہیں بھی تنہا چھوڑ دیا گیا۔

شاناز ابراہیم کا کہنا تھا کہ عراقی کردوں کو پہلی بار عزت اور وقار کے ساتھ زندہ رہنے کا موقع ملا ہے اور بڑی طاقتوں کے لیے انہیں کرائے کے سپاہیوں کے طور پر استعمال کرنا قابل قبول نہیں۔

پس منظر:

حالیہ دنوں میں ایران اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان کشیدگی کے باعث کرد علاقوں کے حوالے سے مختلف دعوے اور بیانات سامنے آ رہے ہیں جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

اہم نکات:

عراقی کرد انتظامیہ نے ایران حملے کے الزامات مسترد کر دیے

امریکی حکام نے کرد جنگجوؤں کے حملے کا دعویٰ کیا تھا

کرد قیادت نے جنگ کے پھیلاؤ کی مخالفت کی

کرد علاقوں پر حملوں کی مذمت اور عالمی برادری سے مدد کی اپیل

ممکنہ اثراتَ:

قلیل مدتی: خطے میں کشیدگی کے باعث بیانات اور دعوؤں میں اضافہ۔

درمیانی مدتی: کرد علاقوں کی سکیورٹی صورتحال مزید حساس ہو سکتی ہے۔

طویل مدتی: مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن اور علاقائی سیاست پر اثرات پڑنے کا امکان۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں