دبئی: ایک بڑی سیٹلائٹ کمپنی نے مشرق وسطیٰ کی تازہ تصاویر فوری طور پر جاری کرنے پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں ایرانی حملوں کے بعد امریکی تنصیبات کو پہنچنے والے ممکنہ نقصانات کی سیٹلائٹ تصاویر منظر عام پر آئی تھیں۔
رپورٹس میں اردن، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں امریکی میزائل دفاعی نظام تھاڈ (THAAD) کے ریڈارز کو نشانہ بنائے جانے کی تصاویر بھی شائع کی گئی تھیں۔
ان تصاویر کے منظر عام پر آنے کے بعد سیٹلائٹ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی ممالک، عراق اور جنگی علاقوں کی نئی سیٹلائٹ تصاویر 96 گھنٹے کی تاخیر سے جاری کی جائیں گی۔
کمپنی کے مطابق امریکی حکومت اور عسکری صارفین کو ان تصاویر تک فوری رسائی بدستور حاصل رہے گی جبکہ ایران کی سیٹلائٹ تصاویر اب بھی فوری طور پر دستیاب رہیں گی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ امریکی فوج اور انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ اس کے بڑے معاہدے موجود ہیں جس کے تحت بعض صارفین کو خصوصی رسائی حاصل ہے۔
اہم نکات:
سیٹلائٹ کمپنی کا مشرق وسطیٰ کی تصاویر پر عارضی پابندی کا اعلان
جنگی علاقوں کی تصاویر 96 گھنٹے تاخیر سے جاری ہوں گی
امریکی فوج اور عسکری صارفین کو فوری رسائی برقرار
ایران سے متعلق تصاویر بدستور فوری دستیاب
ممکنہ اثرات:
قلیل مدتی: جنگی علاقوں کی معلومات عام عوام تک تاخیر سے پہنچیں گی۔
درمیانی مدتی: میڈیا اور تجزیہ کاروں کے لیے معلومات تک رسائی محدود ہو سکتی ہے۔
طویل مدتی: جنگی علاقوں میں سیٹلائٹ ڈیٹا کے استعمال پر نئی پالیسیوں کا امکان۔

