خیبرپختونخوا حکومت کا وادی پشاور میں وفاق کے تعاون سے ٹرین چلانے کا فیصلہ

0

پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے وفاقی حکومت کے تعاون سے وادی پشاور میں نئی ریل سروس شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے اس حوالے سے Pakistan Railways کے سیکرٹری اور چیئرمین کو خط لکھا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مجوزہ منصوبے کا نام “پشاور ویلی ریلوے” رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

خط کے مطابق صوبائی حکومت موجودہ ریلوے انفراسٹرکچر پر ریل کار اور ڈیزل ملٹیپل یونٹس چلانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور اس منصوبے کی ابتدائی فزیبلٹی اسٹڈی کے لیے گراؤنڈ ورک بھی شروع کر دیا گیا ہے۔

منصوبے کے مراحل:

پہلا مرحلہ:

62 کلومیٹر طویل پشاور – نوشہرہ – جہانگیرہ ریلوے سیکشن پر کام ہوگا۔

دوسرا مرحلہ:

65 کلومیٹر نوشہرہ – مردان – درگئی ریلوے سیکشن

27 کلومیٹر مردان – چارسدہ سیکشن

18 کلومیٹر پشاور – جمرود سیکشن

مزید منصوبہ:

60 کلومیٹر طویل کوہاٹ – جنڈ ریلوے سیکشن پر بھی کام کیا جائے گا۔

خط میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت اور ریلوے حکام کے درمیان اجلاس میں تعاون بڑھانے پر غور کیا گیا تھا اور مضافاتی ریل سروس کو اوپن ایکسیس فریم ورک کے تحت مرحلہ وار شروع کیا جائے گا۔

اس منصوبے کے تحت پاکستان ریلویز کے موجودہ انفراسٹرکچر کے استعمال کے لیے باہمی اتفاق سے ٹریک ایکسیس چارج ادا کیا جائے گا۔

دوسری جانب سیکرٹری محکمہ ٹرانسپورٹ محمد زبیر نے بتایا کہ یہ منصوبہ گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ پہلی بار صوبائی اور وفاقی حکومتیں مل کر اس نوعیت کا منصوبہ شروع کر رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے صوبے کو انفراسٹرکچر کی تعمیر میں لاگت کم آئے گی جبکہ ریلوے کے کاروبار اور آمدن میں بھی اضافہ ہوگا۔

اہم نکات:

وادی پشاور میں نئی مضافاتی ریل سروس شروع کرنے کا فیصلہ

منصوبے کا نام پشاور ویلی ریلوے رکھا جائے گا

پہلے مرحلے میں پشاور، نوشہرہ اور جہانگیرہ سیکشن پر کام

منصوبہ صوبائی و وفاقی تعاون سے مکمل ہوگا

ممکنہ اثرات:

قلیل مدتی: منصوبے کی فزیبلٹی اور تکنیکی تیاریوں کا آغاز۔

درمیانی مدتی: وادی پشاور کے بڑے شہروں کے درمیان سفر آسان ہوگا۔

طویل مدتی: ٹریفک کے مسائل میں کمی اور ریلوے کے کاروبار میں اضافہ متوقع۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں