بھارت میں مسلم مخالف جرائم رپورٹ کرنے والے صحافی نشانے پر

0

نئی دہلی: عالمی صحافتی تنظیم رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں مسلم مخالف جرائم کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں صحافتی آزادی نچلی ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اور خاص طور پر ایسے صحافی دباؤ اور خطرات کا سامنا کر رہے ہیں جو اقلیتوں کے خلاف ہونے والے واقعات کو اجاگر کرتے ہیں۔

دوسری جانب امریکی این جی او جینو سائیڈ واچ نے بھی اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی میڈیا پر سیاسی اثر و رسوخ بڑھ چکا ہے اور وہ مکمل طور پر غیر جانبدار نہیں رہا۔

رپورٹ کے مطابق حکمران جماعت بی جے پی کی پالیسیوں اور مسلم مخالف اقدامات کو میڈیا میں بار بار نمایاں کیا جاتا ہے، جبکہ تنقیدی آوازوں کو محدود کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی اراکین کانگریس اور امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی بھی بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے سلوک پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔

اہم نکات:

مسلم مخالف جرائم رپورٹ کرنے والے صحافیوں کو خطرات
بھارت میں صحافتی آزادی کم ترین سطح پر
میڈیا پر سیاسی اثر و رسوخ کے الزامات
اقلیتوں کے مسائل اجاگر کرنے والوں پر دباؤ

پس منظر:

کسی بھی جمہوری معاشرے میں آزاد صحافت بنیادی ستون سمجھی جاتی ہے، تاہم جب میڈیا پر دباؤ بڑھتا ہے تو نہ صرف معلومات کی شفافیت متاثر ہوتی ہے بلکہ اقلیتوں کے حقوق بھی مزید غیر محفوظ ہو جاتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں