کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی فاروق ستار نے وفاقی حکومت کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کا ایک آئینی عہدہ بھی برداشت نہیں کیا جا رہا جبکہ خود کئی کئی عہدے رکھے جا رہے ہیں۔
کراچی میں دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ وہ وفاقی حکومت کو آخری وارننگ دے رہے ہیں کہ اپنا رویہ تبدیل کریں اور دلوں میں کشادگی پیدا کریں، بصورت دیگر سب کی بقا اور سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کا انحصار کراچی کی ترقی پر ہے اور ملک کے لیے بااختیار بلدیاتی نظام ناگزیر ہو چکا ہے۔
فاروق ستار نے مطالبہ کیا کہ ملک میں فوری طور پر موثر اور بااختیار بلدیاتی نظام قائم کیا جائے۔
دوسری جانب خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کراچی میں اختیارات اور وسائل کی منتقلی روکی جا رہی ہے اور تمام سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ 28ویں آئینی ترمیم فوری لائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ ترمیم لائی گئی تو ایم کیو ایم اس کی حمایت کرے گی۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں اس آئینی ترمیم کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
اہم نکات:
فاروق ستار کی وفاقی حکومت کو سخت وارننگ
ایم کیو ایم کے عہدے پر اعتراض جبکہ دیگر کئی عہدے رکھنے پر تنقید
بااختیار بلدیاتی نظام کے قیام کا مطالبہ
28ویں آئینی ترمیم فوری لانے کی اپیل
پس منظر:
کراچی میں بلدیاتی اختیارات اور وسائل کی تقسیم کا معاملہ طویل عرصے سے سیاسی تنازع کا شکار ہے، جہاں مختلف جماعتیں اختیارات کی منتقلی اور مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے کے مطالبات کرتی رہی ہیں۔

