تہران: ایران کے دارالحکومت تہران اور مشہد سمیت ملک بھر میں یومِ القدس کے موقع پر بڑی ریلیاں نکالی گئیں جن میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔
یوم القدس کی مناسبت سے نکالی گئی ریلیوں میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی، قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی سمیت پولیس اور عدلیہ کے سربراہان اور دیگر اہم شخصیات بھی شریک ہوئیں۔
رپورٹس کے مطابق تہران کے انقلاب اسکوائر میں ہونے والی القدس ریلی کے دوران ایک دھماکا بھی ہوا تاہم شرکا بے خوف ہو کر نعرہ تکبیر بلند کرتے اور امریکا و اسرائیل کے خلاف نعرے لگاتے رہے جبکہ ایرانی قومی پرچم بھی لہرایا گیا۔
اس موقع پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ دشمن کو ایران کی طاقت کا اندازہ ہو جائے گا اور ایرانی قوم اپنے مؤقف پر ڈٹی رہے گی۔
دوسری جانب ایرانی قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی نے کہا کہ امریکی صدر ایرانی قوم کے عزم کو نہیں سمجھ سکتے اور القدس ریلی پر حملہ اسرائیل کی کمزوری اور کنفیوژن کو ظاہر کرتا ہے۔
اہم نکات:
ایران بھر میں یوم القدس کے موقع پر بڑی ریلیاں
صدر، وزیر خارجہ اور دیگر اعلیٰ شخصیات کی شرکت
تہران کی القدس ریلی کے دوران دھماکے کی اطلاع
شرکا کی جانب سے امریکا اور اسرائیل کے خلاف نعرے
پس منظر:
یوم القدس ہر سال رمضان کے آخری جمعہ کو منایا جاتا ہے جس کا آغاز 1979 میں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خمینی نے کیا تھا، اس دن فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی اور اسرائیلی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا جاتا ہے۔

