حقائق:
کراچی: سندھ کابینہ نے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کیلئے 7 ارب روپے معاوضے کی منظوری دے دی، جبکہ شہر کی سڑکوں کی بحالی سمیت متعدد ترقیاتی منصوبوں کیلئے بھی اربوں روپے مختص کیے گئے۔
ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق کابینہ اجلاس میں ضروری اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے خصوصی اختیارات کی منظوری دی گئی۔ اس فیصلے کے بعد ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو خصوصی مجسٹریٹ کے اختیارات سونپ دیے گئے ہیں، جبکہ پرائس کنٹرول ایکٹ کے تحت فوری جرمانہ اور کارروائی کا اختیار بھی دے دیا گیا ہے۔
اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے ہدایت کی کہ مصنوعی مہنگائی میں ملوث عناصر کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور ماہِ رمضان میں سرکاری نرخوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
کابینہ نے وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کی فنانس کمیٹی کی سفارشات بھی منظور کر لیں۔
ترجمان کے مطابق:
شہر کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8 ارب 53 کروڑ روپے
گل پلازہ متاثرین کیلئے 7 ارب روپے
آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے 1 ارب 57 کروڑ روپے
حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کیلئے 5 ارب 20 کروڑ روپے گرانٹ
کچے کے علاقوں میں آپریشن کیلئے سندھ پولیس کو 56 کروڑ روپے
پیپلز آئی ٹی پروگرام فیز 2 کے تحت نوجوانوں کی تربیت کیلئے 90 کروڑ روپے
پس منظر:
سانحہ گل پلازہ کے بعد متاثرین کو معاوضہ دینے کا معاملہ زیر غور تھا، جبکہ کراچی میں انفراسٹرکچر کی بحالی اور مہنگائی کنٹرول اقدامات بھی حکومتی ایجنڈے کا حصہ رہے ہیں۔
اہم نکات:
متاثرین کیلئے 7 ارب روپے کی منظوری
پرائس کنٹرول کیلئے انتظامی اختیارات میں اضافہ
سڑکوں کی بحالی کیلئے 8 ارب 53 کروڑ روپے
نوجوانوں کی آئی ٹی تربیت کیلئے 90 کروڑ روپے
متوقع اثرات:
قلیل مدتی:
متاثرین کو مالی ریلیف اور قیمتوں پر فوری نگرانی۔
درمیانی مدتی:
شہری انفراسٹرکچر کی بہتری اور بلدیاتی نظام کو تقویت۔
طویل مدتی:
معاشی اور ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے شہری سہولیات میں پائیدار بہتری۔

