امریکا میں عدالتی فیصلے کے بعد بھارت نے تجارتی مذاکرات مؤخر کر دیے

0

حقائق:

نئی دہلی / واشنگٹن: امریکا میں عدالتی فیصلے کے بعد بھارت نے امریکا کے ساتھ جاری تجارتی مذاکرات عارضی طور پر مؤخر کر دیے ہیں، جس سے مجوزہ عبوری تجارتی معاہدہ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارت نے واشنگٹن بھیجے جانے والے اپنے تجارتی وفد کا دورہ اس وقت مؤخر کیا جب سپریم کورٹ آف دی یونائیٹڈ اسٹیٹس نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ بعض محصولات کو مسترد کر دیا۔ فیصلے کے بعد نئی تجارتی پالیسی کے خدوخال سے متعلق ابہام پیدا ہو گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے حکام کے درمیان مشاورت کے بعد مذاکرات مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا، تاہم نئی تاریخ تاحال طے نہیں کی گئی۔

ادھر صدر ٹرمپ نے عدالتی فیصلے کے بعد تمام ممالک سے درآمدات پر 15 فیصد عارضی محصول عائد کرنے کا اعلان کیا، جس سے جاری مذاکراتی عمل مزید متاثر ہوا ہے۔

مجوزہ عبوری معاہدے کے تحت امریکا بعض بھارتی برآمدات پر محصولات میں کمی پر آمادہ تھا، جبکہ بھارت آئندہ پانچ برسوں میں توانائی، طیاروں، قیمتی دھاتوں اور ٹیکنالوجی مصنوعات سمیت بڑی مالیت کی امریکی اشیا خریدنے پر تیار تھا۔

بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے بھی عدالتی فیصلے کے بعد معاہدے کو مؤخر کر کے ازسرِنو بات چیت کا مطالبہ کیا ہے۔

پس منظر:

امریکا اور بھارت کے درمیان حالیہ برسوں میں تجارتی حجم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، تاہم محصولات اور منڈی تک رسائی جیسے امور پر اختلافات برقرار رہے ہیں۔

اہم نکات:

بھارتی تجارتی وفد کا دورہ مؤخر

امریکی عدالتی فیصلے کے بعد غیر یقینی صورتحال

15 فیصد عارضی محصول کا اعلان

مجوزہ عبوری معاہدہ التوا کا شکار

متوقع اثرات:

قلیل مدتی:
دوطرفہ تجارتی سرگرمیوں میں سست روی۔

درمیانی مدتی:
نئی شرائط کے تحت مذاکرات کی بحالی کا امکان۔

طویل مدتی:
امریکا–بھارت تجارتی تعلقات کی سمت کا انحصار نئی پالیسی پر ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں