حقائق:
تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ جوہری معاملے کا واحد حل سفارتی مذاکرات ہیں، تاہم اگر کسی معاہدے تک پیش رفت نہ ہو سکی تو ایران اپنے دفاع میں ضروری اقدامات کے لیے تیار ہے۔
امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ آئندہ دو سے تین روز میں ممکنہ جوہری معاہدے کا ابتدائی مسودہ تیار کیا جا سکتا ہے۔ منظوری کی صورت میں یہ دستاویز امریکی خصوصی ایلچی کے حوالے کر دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں جوہری افزودگی روکنے کی کوئی پیشکش نہیں کی گئی اور نہ ہی امریکا کی جانب سے ایسا کوئی باضابطہ مطالبہ سامنے آیا ہے، البتہ دونوں ممالک کے مذاکرات کار تیز رفتار پیش رفت پر کام کر رہے ہیں۔
عباس عراقچی نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا کہ جوہری تنازع کا کوئی فوجی حل موجود نہیں، اصل راستہ سفارت کاری ہی ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران پر دباؤ یا حملے کی راہ اختیار کی گئی تو اس کے نتائج نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے اور عالمی برادری کے لیے سنگین ہوں گے۔
انہوں نے امریکی قیادت، بالخصوص سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اراکین کانگریس کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ، پابندیاں یا اسنیپ بیک جیسے اقدامات ماضی میں مؤثر ثابت نہیں ہوئے۔ ان کے بقول، احترام کی زبان میں بات کی جائے گی تو ایران بھی اسی انداز میں جواب دے گا، لیکن طاقت کی زبان اپنائی گئی تو ردعمل بھی اسی نوعیت کا ہوگا۔
یاد رہے کہ حالیہ بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ محدود حملے کے آپشن پر غور کرنے کا عندیہ دیا تھا۔
پس منظر:
ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام کے معاملے پر کشیدگی برسوں سے جاری ہے۔ پابندیوں، سفارتی رابطوں اور پس پردہ مذاکرات کے ادوار کے باوجود حتمی اور پائیدار معاہدہ تاحال چیلنج بنا ہوا ہے۔
اہم نکات:
ابتدائی مسودہ چند روز میں تیار ہونے کا امکان
افزودگی روکنے سے متعلق باضابطہ پیشکش یا مطالبے کی تردید
فوجی آپشن کو غیر مؤثر قرار، مگر دفاعی تیاری کا عندیہ
امریکی ممکنہ کارروائی کو خطے کے لیے سنگین قرار دیا گیا
متوقع پیش رفت:
قلیل مدتی:
ابتدائی مسودے کی تیاری اور سفارتی سطح پر تبادلہ خیال۔
درمیانی مدتی:
فریقین کے درمیان شرائط، پابندیوں اور نگرانی کے نظام پر سخت مذاکرات۔
طویل مدتی:
یا تو عبوری نوعیت کا معاہدہ، یا خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ۔

