پاکستان میں 3 لاکھ ایچ آئی وی مریضوں کا دعویٰ زیر سوال

0

حقائق:

پارلیمانی منظرنامہ: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے اجلاس میں اس وقت اہم بحث چھڑ گئی جب وفاقی وزیر صحت Mustafa Kamal نے پاکستان میں ایچ آئی وی کے تین لاکھ مریضوں کے اعداد و شمار کو “مفروضے پر مبنی” قرار دے دیا۔

وزیر صحت نے کہا کہ ایچ آئی وی کیسز سے متعلق جو تعداد گردش کر رہی ہے وہ تخمینوں پر مبنی ہے، مستند اور جامع ڈیٹا کی ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسکریننگ کے دائرہ کار میں توسیع سے کیسز کی تعداد میں اضافہ سامنے آ سکتا ہے، جسے حقیقی صورتحال کے تناظر میں دیکھنا ہوگا۔

اجلاس میں گلوبل فنڈ کی تقسیم بھی زیر بحث آئی، جہاں بتایا گیا کہ 25 فیصد فنڈ حکومت اور 75 فیصد این جی اوز کو فراہم کیا جا رہا ہے۔ وزیر صحت نے بارڈر ہیلتھ سروسز میں ڈی پورٹ ہونے والے افراد کی اسکریننگ کا بھی عندیہ دیا۔

اہم نکات:

سندھ میں بچوں میں ایچ آئی وی کیسز کا ذکر کرتے ہوئے غلط سرنجز کے استعمال کو وجہ قرار دیا گیا۔

ڈی جی ہیلتھ کی بریفنگ پر وزیر صحت نے سخت ردعمل دیتے ہوئے مخصوص ڈیٹا پیش کرنے کی ہدایت کی۔

نرسنگ کونسل میں مبینہ بے ضابطگیوں اور عدالتی حکم امتناع پر بھی تشویش ظاہر کی گئی، ان کیمرا سیشن کا عندیہ۔

پوشیدہ پہلو:

ماہرین کے مطابق ایچ آئی وی جیسے حساس معاملے پر غیر واضح اعداد و شمار پالیسی سازی، فنڈنگ اور بین الاقوامی اعتماد پر اثر ڈال سکتے ہیں۔

متوقع نتائج:

قلیل مدتی: ایچ آئی وی ڈیٹا کی ازسرِنو جانچ
درمیانی مدتی: اسکریننگ اور رپورٹنگ نظام میں بہتری
طویل مدتی: صحت پالیسی اور فنڈنگ شفافیت پر نئی بحث

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں