کراچی کے گل پلازہ میں آتشزدگی ہلاکتیں 26 تک پہنچ گئیں، 80 سے زائد افراد تاحال لاپتا، ریسکیو آپریشن جاری

0

حقائق:

کراچی: کراچی کے مصروف تجارتی علاقے میں واقع گل پلازہ میں لگنے والی خوفناک آگ کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 26 ہو گئی ہے، جبکہ ریسکیو حکام کے مطابق 80 سے زائد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ آگ 17 جنوری کو لگی تھی اور کئی روز گزرنے کے باوجود ریسکیو آپریشن مکمل نہیں ہو سکا۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق پلازہ کے اندر دھواں، ملبہ اور کمزور ڈھانچہ ریسکیو کام میں بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ کئی منزلوں تک آگ پھیلنے کے باعث اندر پھنسے افراد تک پہنچنا مشکل ہو رہا ہے۔ فائر بریگیڈ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر سرچ اور کلیئرنس آپریشن میں مصروف ہیں۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عمارت میں فائر سیفٹی کے مؤثر انتظامات موجود نہیں تھے، جبکہ ہنگامی اخراج کے راستے بھی ناکافی تھے۔ واقعے کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

پوشیدہ پہلو:

ماہرین کے مطابق پرانے کمرشل پلازوں میں حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ فائر الارم سسٹمز، ایمرجنسی ایگزٹس اور باقاعدہ انسپیکشن نہ ہونے کی وجہ سے ایسے حادثات جانی نقصان میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔

پاکستان اور خطے پر اثرات:

کراچی جیسے بڑے تجارتی مرکز میں اس نوعیت کا سانحہ شہری منصوبہ بندی، فائر سیفٹی قوانین اور ایمرجنسی ریسپانس سسٹم پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔ اس واقعے کے اثرات دیگر بڑے شہروں میں کمرشل عمارتوں کے حفاظتی جائزے پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

متوقع نتائج:

قلیل مدتی: ریسکیو آپریشن کا تسلسل، لاپتا افراد کی تلاش۔
درمیانی مدتی: تحقیقات، ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی۔
طویل مدتی: کمرشل عمارتوں کے لیے فائر سیفٹی قوانین پر سخت عملدرآمد۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں