حقائق:
بھارت: بھارتی مرکزی حکومت نے کوئیک کامرس کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ’10 منٹ ڈیلیوری‘ جیسے دعوؤں سے گریز کریں، کیونکہ ایسے وعدے ڈیلیوری ورکرز کی سلامتی اور فلاح و بہبود کے لیے خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق حکام کا مؤقف ہے کہ انتہائی کم وقت میں ڈیلیوری کے وعدے ورکرز پر غیر ضروری دباؤ ڈالتے ہیں، جس کے نتیجے میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی، حادثات اور کام کی غیر محفوظ صورتحال کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔ اسی تناظر میں کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی مارکیٹنگ اور سروس ماڈلز پر نظرثانی کریں۔
حکام کا کہنا ہے کہ گیگ اکانومی کے پھیلاؤ کے ساتھ ورکر سیفٹی، مناسب اوقاتِ کار اور ذمہ دار کاروباری طریقوں کو یقینی بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ حکومت اس شعبے میں ضابطہ کاری (Regulation) کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔
پوشیدہ پہلو:
ماہرین کے مطابق یہ ہدایت محض اشتہاری دعوؤں تک محدود نہیں بلکہ گیگ اکانومی میں ورکر رائٹس اور کمپنیوں کی ذمہ داریوں پر بڑھتی ہوئی توجہ کی عکاسی کرتی ہے۔ تیز رفتار ڈیلیوری ماڈلز منافع تو بڑھاتے ہیں، مگر ان کی قیمت اکثر ورکرز کی سلامتی ادا کرتی ہے۔
پاکستان اور خطے پر اثرات:
بھارت میں کوئیک کامرس پر ضابطہ کاری کے اثرات جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ پاکستان سمیت خطے میں ڈیلیوری ایپس اور گیگ اکانومی پلیٹ فارمز کے لیے ورکر سیفٹی اور سروس کلیمز پر پالیسی بحث کو تقویت مل سکتی ہے۔
متوقع نتائج:
قلیل مدتی: کمپنیوں کی جانب سے اشتہاری دعوؤں اور ڈیلیوری ماڈلز میں تبدیلی۔
درمیانی مدتی: گیگ ورکرز کی سلامتی اور اوقاتِ کار سے متعلق رہنما اصول۔
طویل مدتی: کوئیک کامرس اور گیگ اکانومی کے لیے جامع ریگولیٹری فریم ورک۔
:References
https://www.reuters.com
https://www.thehindu.com
https://indianexpress.com

