BRICS بلاک—جو برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ پر مشتمل ہے—دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے کیونکہ ترقی پذیر نئی معیشتوں کی رکنیت پر بات چیت تیز ہو رہی ہے۔ ممالک جیسے سعودی عرب، ایران، متحدہ عرب امارات اور ارجنٹائن ابتدائی مذاکرات میں ہیں، جو عالمی مالی اور تجارتی ڈھانچوں کو دوبارہ متعین کر سکتے ہیں۔
ساتھ ہی، BRICS ممالک امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنے کے لیے متبادل کرنسی کے نظام پر غور کر رہے ہیں۔ اس میں تجاویز شامل ہیں: ڈیجیٹل BRICS کرنسی، مقامی کرنسیوں میں دوطرفہ تجارتی معاملات، اور مربوط مالیاتی ذخائر۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات بتدریج مغربی مالیاتی نظام کو چیلنج کر سکتے ہیں، خاص طور پر افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ میں۔
BRICS کی توسیع صرف اقتصادی لحاظ سے نہیں بلکہ یہ جیوپولیٹیکل حکمت عملی بھی ہے۔
1. چین اور روس گلوبل ساؤتھ میں اثر و رسوخ مضبوط کرنا چاہتے ہیں، تجارتی راستے قائم کرتے ہوئے اور ڈالر پر انحصار کم کرتے ہوئے۔
2. بھارت اپنی تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت کو leverage کر رہا ہے اور پڑوسی ممالک کو متوجہ کر رہا ہے، ساتھ ہی مغربی تعلقات کا توازن برقرار رکھ رہا ہے۔
3. نئے رکن ممالک جیسے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بڑی مالی اور توانائی کی قوت لاتے ہیں، جس سے بلاک کی عالمی سودے بازی کی طاقت میں اضافہ ہوتا ہے۔
یہ ہم آہنگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایک متوازی اقتصادی نظام بن رہا ہے، جہاں ترقی پذیر ممالک کو US-EU مالیاتی اثرورسوخ کا متبادل فراہم کیا جائے گا۔
پوشیدہ زاویہ: جو میڈیا غالباً نظرانداز کر رہا ہے
جبکہ عالمی خبروں کی توجہ رکنیت کی توسیع پر ہے، کم ذرائع اس کی حکمت عملی اور علاقائی اثرات کا تجزیہ کرتے ہیں:
• BRICS کے مالیاتی تجربات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب بہت سے ترقی پذیر ممالک میں مہنگائی، قرض کا دباؤ اور کرنسی کی غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے۔
• پاکستان جیسے ممالک پر ممکنہ طور پر تجارتی معاہدوں اور خارجہ پالیسی کی ہم آہنگی کا دباؤ ہو سکتا ہے، جو ملکی اقتصادی استحکام کو متاثر کرے گا۔
• بلاک کی ڈیجیٹل کرنسی کی پہل نئے علاقائی ادائیگی کے نظام کو تیز کر سکتی ہے، جو روایتی بینکاری اور پابندیوں کو بائی پاس کرے۔
پاکستان اور جنوبی ایشیا پر اثرات
پاکستان کے لیے BRICS کی توسیع اور کرنسی کی حکمت عملی کے براہ راست اثرات ہیں:
• CPEC اور تجارتی فائدہ: چین-پاکستان اکنامک کوریڈور منصوبے BRICS سے منسلک مالیاتی اور انشورنس نظام سے مضبوط ہو سکتے ہیں۔
• زر مبادلہ کی استحکام: مقامی کرنسی میں تجارتی معاہدے امریکی ڈالر پر انحصار کم کر سکتے ہیں، جس سے درآمدات اور برآمدات کے بہاؤ میں پیشگوئی ممکن ہوگی۔
• سفارتی توازن: پاکستان کو ضرورت ہوگی کہ وہ مغربی طاقتوں اور BRICS اتحادیوں کے درمیان توازن قائم کرے، جو 2026 میں خارجہ پالیسی کے فیصلوں کو متاثر کرے گا۔
پیشگوئی شدہ بصیرت
1. قلیل مدتی: BRICS معیشتوں سے جڑی اشیاء کی قیمتوں اور کرنسیوں میں اتار چڑھاؤ متوقع ہے۔ پاکستان میں زرمبادلہ میں معتدل تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔
2. درمیانی مدت: ممکن ہے کہ نئے BRICS اراکین کے ساتھ تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاہدے وسط 2026 تک دستخط ہوں۔
3. طویل مدتی: اگر BRICS کرنسی کے تجربات کامیاب ہوئے، تو ترقی پذیر ممالک، بشمول پاکستان، کو معاشی خود مختاری حاصل ہو سکتی ہے، لیکن جیوپولیٹیکل ہم آہنگی کا دباؤ بھی بڑھے گا۔
مددگار خبریں
1. چین کی انفراسٹرکچر ڈپلومیسی: افریقہ میں نئے تجارتی راستے کے معاہدے CPEC ماڈل کے متواتر نفاذ کی نشاندہی کرتے ہیں۔
2. روس اور توانائی کا اثرورسوخ: BRICS سے منسلک معاہدوں کے ذریعے تیل اور گیس کی برآمد عالمی توانائی کی قیمتوں اور سپلائی چین پر اثر ڈالے گی۔
3. بھارت کی علاقائی حکمت عملی: BRICS میں شرکت کے ذریعے جنوب مشرقی ایشیا اور بھارتی سمندری خطے میں اثرورسوخ مضبوط کیا جا رہا ہے، جو علاقائی سلامتی پر اثر ڈالے گا۔
نفسیاتی تعلق
ان پیش رفتوں کو سمجھنا شہریوں، کاروباروں اور پالیسی سازوں کے لیے ضروری ہے۔ تجارت، مالیات اور اتحاد میں حکمت عملی کی تبدیلیاں ملازمتوں، اشیاء کی قیمتوں اور علاقائی استحکام پر اثر ڈالیں گی۔ باخبر رہنے سے پاکستان اور خطے کے اسٹیک ہولڈرز معاشی تبدیلیوں اور پالیسی ایڈجسٹمنٹ کو اعتماد کے ساتھ نیویگیٹ کر سکتے ہیں۔
اختتامی نوٹ
BRICS کی توسیع صرف خبریں نہیں بلکہ ایک حکمت عملی کا نقشہ ہے جو عالمی اثرورسوخ کو تشکیل دے رہا ہے۔ ان اقدامات کی نگرانی پاکستان اور گلوبل ساؤتھ کے لیے موثر پوزیشننگ اور طویل مدتی حکمت عملی کا پہلا قدم ہے۔
حوالہ جات:
1. Reuters – BRICS Expansion Talks
2. Financial Times – BRICS Currency Plans
3. Bloomberg – BRICS and Global Trade
4. Al Jazeera – BRICS New Members

