بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سنیل گواسکر نے کولکتہ میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے کا ذمہ دار اسٹار فٹبالر لیونل میسی کو ہی قرار دے دیا۔
ہوا کچھ یوں کہ لیونل میسی کے دورہ بھارت کے دوران کولکتہ اسٹیڈیم میں مختصر قیام پر مداح مشتعل ہوگئے تھے، میسی کولکتہ اسٹیڈیم میں صرف 10 سے 20 منٹ تک رکے جس پر مداح ناراض ہوگئے تھے۔
مداحوں نے مشتعل ہوتے ہوئے اسٹیڈیم میں توڑ پھوڑ کردی اور شکوہ کیا کہ میسی کو تمام لیڈر اور وزرا نے گھیر رکھا تھا ہمیں کچھ بھی نظر نہیں آیا۔
مداحوں نے یہ بھی گلہ کیا کہ میسی نے نہ تو فٹبال کو کک لگائی اور نہ کچھ اور کیا، یہ بدترین ایونٹ تھا جہاں میسی صرف 10 منٹ کے لیے آئے۔
بعدازاں اسٹیڈیم میں بدنظمی کے معاملے پر شو آرگنائزرکو میسی کے ساتھ چارٹرڈ جہاز پر روانگی سے پہلےگرفتارکر لیا گیا تھا۔
سنیل گواسکر کا بیان:
سابق کپتان نے کہا کہ ہر ایک کو مورد الزام ٹھہرایا گیا سوائے اس شخص کے جو اپنے وعدے کو پورا کرنے میں ناکام رہا، میسی کو اپنے کہے پر قائم رہنا چاہیے تھا، اگر انہیں اسٹیڈیم میں ایک گھنٹا رہنا تھا تو وہ ایسے کرنے کے پابند تھے لیکن وہ وقت پورا ہونے سے پہلے چلے گئے، اسی لیے اس واقعے کے ذمہ دار وہ اور ان کا وفد ہے۔
گواسکر نے سکیورٹی خدشات کے دعوؤں کو بھی ایک طرف رکھتے ہوئے اصرار کیا کہ میسی کو کسی حقیقی خطرے کا سامنا نہیں تھا۔
سابق بھارتی کپتان نے کہا وہ سیاستدانوں اور نام نہاد وی آئی پیز میں گھرے ہوئے تھے، انہیں یا ان کے ساتھیوں کو کوئی سکیورٹی خطرہ نہیں تھا۔

