رواں سال کی آخری قومی پولیو مہم کا آغاز

0

سلام آباد پاکستان انسداد پولیو پروگرام نے اس سال کی پانچویں اور آخری قومی پولیو مہم کا آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے پیدا ہونے والی معذوری سے بچانا اور محفوظ بنانا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے پولیو کے خاتمے کے لیے قائم نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر میں مہم کا باقاعدہ آغاز کیا۔

اس موقع پر انہوں نے نیشنل ای او سی کوآرڈینیٹر محمد انوار الحق کے بیٹے سمیت بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے اور پاکستان اور دنیا بھر کے ہر بچے کو پولیو کے عالمی و علاقائی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے حکومت کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔

سات روزہ قومی پولیو مہم 15 تا 21 دسمبر جاری رہے گی، جس کے دوران 4 لاکھ سے زائد پولیو ورکرز گھر گھر جا کر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے دو قطرے پلائیں گے۔

1994 میں پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام کے آغاز سے لے کر اب تک، گھر گھر پولیو ویکسینیشن مہمات کے نتیجے میں پولیو کے سالانہ کیسز میں 99.6 فیصد کمی آئی ہے، جو 20,000 سالانہ کیسز سے کم ہو کر 2024 میں 74 رہ گئے، اور اس سال اب تک 30 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔

اس موقع پر وزیر صحت سید مصطفٰی کمال نے کہا ‘اس سال 30 بچے پولیو کا شکار ہوئے، جن میں سے نصف سے زائد صرف جنوبی خیبر پختونخوا میں ہیں، یہ ظاہر کرتا ہے کہ بچوں تک ویکسین پہنچانے میں کمی خطرہ بڑھا دیتی ہے، یہ صرف اعداد و شمار نہیں ہیں، ہر کیس ایک بچے کے مستقبل، ایک خاندان اور پوری کمیونٹی کے لیے خطرہ ہے، اور پولیو کا خطرہ ہمارے درمیان موجود ہے۔’

انہوں نے 2025 کی آخری مہم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسلسل ویکسینیشن کی بدولت آج پولیو کے کیسز ہزاروں کی بجائے صرف دو ہندسوں تک محدود ہیں تاہم، ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مسلسل موجودگی ملک بھر کے بچوں کے لیے سنگین خطرہ بنی ہوئی ہے۔

وزیر صحت نے والدین، دیکھ بھال کرنے والوں، مذہبی رہنماؤں، کمیونٹی کے بزرگوں، عوامی نمائندوں اور میڈیا سے اپیل کی کہ وہ اپنی ذمہ داری ادا کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں