کراچی گلشن اقبال میں رہائشی فلیٹ سے 3 خواتین کی لاشیں ملنے کا معاملہ معمہ بن گیا ، پولیس نے واقعے میں میں گھر کے کسی شخص کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے گلشن اقبال کے علاقے بلاک ون میں واقع ایک رہائشی فلیٹ سے 3 خواتین کی لاشیں ملنے کے واقعے کی تحقیقات جاری ہے۔
پولیس نے بتایا کہ بظاہر لگتا ہے واقعہ میں گھر کا کوئی شخص ملوث ہے تاہم باریک بینی سےجائزہ لےرہےہیں اور گھر سے کئی دوائیوں کےسیمپل ملے ہیں۔
اہلخانہ کی جانب سے مقدمہ درج کروانے سے بھی انکار کردیا گیا ہے جبکہ رشتہ داروں کی جانب سےلاش وصولی سے بھی منع کیا جارہا ہے۔
حکام کا کہنا تھا کہ دوپہر تک کسی نے مقدمہ درج نہیں کروایا تو سرکار کی مدعیت میں درج کریں گے، 3 لاشوں کے علاوہ ایک نوجوان بھی بیہوشی کی حالت میں ملا تھا، جاں بحق خاتون کا شوہر اقبال بھی گھر پر تھا تاہم مزید تحقیقات کر رہے ہیں۔
اس سے قبل ایس ایس پی ضلع شرقی زبیر نذیر شیخ کے مطابق مقتولین میں ماں، بیٹی اور بہو شامل ہیں۔ جاں بحق خاتون کا شوہر اقبال بھی موقع پر موجود تھا جبکہ گھر کے سربراہ کی ذہنی حالت بھی ٹھیک نہیں لگتی۔ واقعے کی اطلاع جاں بحق خاتون کے بیٹے نے پولیس کو دی۔
پولیس کے مطابق فلیٹ سے متعدد دوائیوں کے سیمپل بھی ملے ہیں، تاہم گھر سے ایسے شواہد نہیں مل سکے جن کی بنیاد پر اموات کی حتمی وجہ فوری طور پر معلوم ہو سکے۔
ابتدائی طور پر شبہ ہے کہ زہریلی چیز کھانے سے اموات واقع ہوئی ہوں، لیکن اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی سامنے آئے گی۔
تحقیقات میں شامل افسران کا کہنا ہے کہ بظاہر لگتا ہے کہ واقعے میں گھر کا کوئی فرد ملوث ہو سکتا ہے، تاہم ہر پہلو سے باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
پولیس کے مطابق اہلخانہ نے نہ تو مقدمہ درج کرانے کی درخواست دی ہے اور نہ ہی لاشیں وصول کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ اگر دوپہر تک اہلخانہ کی جانب سے مقدمہ درج نہ کرایا گیا تو پولیس سرکار کی مدعیت میں کیس درج کرے گی۔
ایس ایس پی شرقی کا کہنا ہے کہ جاں بحق خاندان کچھ عرصہ قبل رنچھور لائن سے گلشن اقبال منتقل ہوا تھا۔ پولیس نے شواہد اکٹھے کرکے فلیٹ کو سیل کردیا ہے جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔

