سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں آئی ایم ایف کی کرپشن رپورٹ زیر بحث آگئی

0

اسلام آباد (3 دسمبر 2025): سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی کرپشن اینڈ ڈائیگناسٹک رپورٹ زیر بحث آگئی۔

سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرِ صدارت قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا جس میں وزارت خزانہ کے حکام نے بتایا کہ رپورٹ آئی ایم ایف بورڈ کے جائزہ اجلاس کے پیش نظر جاری کی گئی جس میں عالمی ادارے نے کہا کہ آپ نے رپورٹ جاری کرنے کیلیے ایگری کیا تھا، مالیاتی فنڈ نے جلد سے جلد رپورٹ جاری کرنے کا کہا تھا۔

رکن قائمہ کمیٹی سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے سوال کیا کہ کیا آپ نے اس رپورٹ سے اتفاق کیا تھا؟ اراکین پارلیمنٹ تو ویسے ہی بدنام ہو جاتے ہیں اس رپورٹ کا اراکین سے تعلق نہیں، اس رپورٹ کا تعلق سول سرونٹس اور گورننس سے ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف نے پاکستان میں کرپشن کی نشاندہی کر دی

کمیٹی کے ایک اور رکن دلاور خان نے کہا کہ آئی ایم ایف نے 5300 ارب کی نشاندہی کی اس کے بدلے ریلیف کتنا دیا گیا ہوگا؟ جن اداروں کا رپورٹ میں ذکر ہوا کیا ان کے خلاف کوئی ایکشن کا ارادہ ہے؟

اس پر وزارت خزانہ کے حکام نے کہا کہ رپورٹ میں کچھ نیا نہیں ہے وہی کچھ ہے جس پر پہلے ہی حکومت کام کر چکی تھی۔

دلاور خان نے کہا کہ لاہور میں ایک ایف بی آر کا افسر ایک ممبر کیلیے ریفنڈز میں کرپشن کرتا ہے، یہ ٹاپ اسٹوری تھی کہ اس افسر نے ممبر بادشاہ وزیر سے حصہ مانگا، حصہ نہ ملنے پر ایف بی آر کے افسر نے فائرنگ کی تھی۔

چیئرمین قائمہ کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا واقعہ سن کر حیران رہ گئے۔ اس پر رکن کمیٹی سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ کیا آپ نہیں جانتے یہ تو ڈیڑھ سال پہلے بڑی اسٹوری تھی؟

سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے ممبر بادشاہ وزیر کا معاملہ اگلی میٹنگ کے ایجنڈے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔

رکن کمیٹی سینیٹر عبدالقادر نے بتایا کہ سی ڈی اے کا ایک افسر اربوں روپے کی کرپشن کر کے اڈیالہ جیل پہنچ گیا جہاں ڈیل ہوئی اور افسر اس سے بڑے عہدے پر تعینات ہوگیا، مافیاز حکومت چلا رہے ہیں۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کرپشن میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے جبکہ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ یہ تو آئی ایم ایف تھا کہ رپورٹ سامنے لانی پڑ گئی۔

سلیم مانڈوی والا نے سوال کیا کہ کرپشن بڑھ رہی ہے اسے ختم کرنے کیلیے کیا کیا جا رہا ہے؟ وزارت خزانہ کے حکام نے بتایا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ 15 سفارشات پر عملدرآمد کرنے کا اتفاق کیا۔

سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ ای پیڈز سے پہلے ہی بولی طے ہو جاتی ہے۔ سینیٹر دلاور خان بولے کہ لاہور کے ایل ٹی او کے گزشتہ 2 سال کے ریفنڈز دیکھ لیں شفافیت سامنے آ جائے گی۔

فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ اس ملک کا آوہ بگڑ گیا ہے اس کو جڑ سے درست کرنا ہوگا۔

وزارت خزانہ کے حکام نے بتایا کہ اس سال ایس آئی ایف سی کی کارکردگی رپورٹ جاری کی جائے گی۔ اس پر سینیٹر دلاور خان بولے کہ ان کا خیال ہے کہ ایس آئی ایف سی سرمایہ کاری لائے گی۔

اجلاس میں رکن کمیٹی شاہزیب درانی کا کہنا تھا کہ ایس آئی ایف سی والے کہتے ہیں ٹیکس زیادہ ہے اس لیے سرمایہ کاری نہیں آ سکتی۔ اس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ اہم معاملہ ہے اس پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے بریفنگ لی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں