کراچی میں رواں سال 5 بچوں سمیت 24 شہری کُھلے ہوئے نالوں اور گٹروں میں گر کر جان کی بازی ہارچکے

0

کراچی میں صرف اس سال 5 بچوں سمیت 24 شہری کُھلے ہوئے نالوں اور گٹروں میں گر کر جان سے جاچکے ہیں لیکن متعلقہ ادارے ایسا نظام وضع نہیں کرپائے جو شہریوں کو ناگہانی اموات سے بچاسکے۔

کراچی کا تباہ حال انفرااسٹرکچر سفر، کاروبارِ اور زندگی کے دیگر شعبوں کو ہر روز متاثر کرے تو لوگ دل پر پتھر رکھ کر برداشت کرلیتے ہیں لیکن جب کوئی بڑا یا بچہ کسی کھلے ہوئے نالے یا گٹر میں گر کر مر جائے تو غم و غصے کی لہر پھیل جاتی ہے۔

اعدادو شمار کے مطابق جنوری سے اب تک شہر کے کھلے ہوئے نالوں اور گٹروں میں گر کر پانچ بچوں سمیت 24 شہری جانیں گنوا چکے ہیں۔

کھلے ہوئے مین ہولز میں گر کر جاں بحق ہونے والوں میں سرجانی ٹاؤن کا 23 سالہ موٹر سائیکل سوار، گرومندر چورنگی کے قریب 45 سال کا عباس نقوی، سلطان آباد

کا 15سالہ ابوبکر، لانڈھی مرتضیٰ چورنگی کے قریب 50سال کا اقبال مسیح، گھاس منڈی میں تین مزدور، جمشید روڈ پیٹرول پمپ پر 5سال کا علی، بلدیہ مواچھ گوٹھ میں 3

سال کا عبدالرحمان، سرجانی حسن بروہی گوٹھ میں 3 سال کا اسد اللہ جبکہ شاہ فیصل نمبر دو میں 4 سال کا بچہ شامل ہیں۔

اس سال کھلے ہوئے نالوں میں گر کر اب تک 13 شہری جاں بحق ہوئے جن میں ماڑی پور دعاہوٹل کے قریب 55 سالہ شہری، گھاس منڈی میں35 سالہ شہری،

سپرہائی وے کوئٹہ بس اڈا کے قریب 2 افراد، ماڑی پور نالہ اسٹاپ کے قریب 38 سال کا الطاف، بنارس عباسی ہوٹل کے قریب 40 سالہ شہری، نارتھ ناظم آباد

لنڈی کوتل چورنگی کے قریب طفیل اور غفار نامی نوجوان، کورنگی سیکٹر 51C قبرستان کے قریب 28 سالہ رضوان، ملیر کالا بورڈ کے قریب 59 سالہ شہری،نیپا چورنگی پر

55 سالہ شخص، نیپا چورنگی چیس اپ کے قریب چار سال کا ابراہیم اور کورنگی ڈھائی نمبر میں 30 سال کا شہری شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں