جامعہ کراچی کو دو لخت کرنے کے بل کو مسترد کرتے ہوئے انجمن اساتذہ جامعہ کراچی نے یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے۔
آج (پیر کو) اسٹاف کلب جامعہ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کے صدر ڈاکٹر غفران عالم، سیکریٹری ڈاکٹر معروف بن رؤف، آئی بی ایس ایس کے پروفیسر شاہ حسن، اور دیگر نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس بل کو ختم کر کے تمام اسٹیک ہولڈرز جس میں تمام ڈونرز، کراچی یونیورسٹی سنڈیکیٹ، سینیٹ، وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن، سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور چارٹر انسپکشن اینڈ ایویلیویشن کمیٹی شامل ہیں سے مشاورت کرے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا ایک ایسا حل نکالا جائے جس میں CBS کو کراچی یونیورسٹی سے متحد کیے بغیر اس کی اور جامعہ کراچی کی ترقی و بہتری کے لیے سفارشات موجود ہوں۔
انجمن اساتذہ کے نمائندوں نے ارباب اختیار اور عوام سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ اربوں روپے کی پراپرٹیز کو صرف چند کروڑ ملانے والوں کے ہاتھ میں دینا کس طرح ممکن ہے؟ ادارے میں موجود تمام اساتذہ و ملازمین کو فیصلے کے لیے 90 دن کی مہلت دینا کیا شہید ذوالفقار علی بٹھو کا ویژن ہوسکتا ہے؟ کیا اساتذہ و ملازمین سے ہر قسم کی کا حق چھین لینا اور عدالت میں جانے کے حق سے محروم کر دینا پیپلز پارٹی کا منشور ہوسکتا ہے؟ کیا بورڈز اور ڈائریکٹرز کو مکمل استثنیٰ دینا احتساب کے بنیادی اصولوں سے متصادم نہیں؟
انجمنِ اساتذہ نے کہا کہ ہم نے اس بل کا بغور جائزہ لیا ہے، اس بل کے مندرجات میں اعلیٰ تعلیم کی ترقی و ترویج کی شقوں سے زیادہ زور اس ادارے کا نظام دو ڈونرز کے ہاتھوں میں منتقل کرتا نظر آتا ہے۔

