ایل این جی کارگوز کی منتقلی کا منصوبہ منظور، زرمبادلہ میں 1 ارب ڈالر کی بچت کا امکان

0

سلام آباد ایل این جی کارگوز منتقلی کا منصوبہ منظور کر لیا گیا جس سے غیر ملکی زرمبادلہ میں ایک ارب ڈالرز کی بچت کا امکان ہے۔

کئی مہینوں کی غیر یقینی کے بعد پاکستان نے بالآخر قطر اور اطالوی تجارتی فرم ای این آئی کے ساتھ 2026 کے لیے اپنے طویل انتظار کے ʼسالانہ ’’ترسیلی منصوبے‘‘ کی منظوری دے دی ہے، جس سے 35 ایل این جی کارگوز کو بین الاقوامی مارکیٹ کی طرف موڑنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

اس اقدام سے پاکستان میں بڑھتی ہوئی گیس کی اضافی مقدار کو کم کرنے اور گرتی ہوئی طلب کی وجہ سے دباؤ کا شکار ترسیلی نظام کو مستحکم کرنے کی جانب ایک اہم قدم اٹھایا گیا ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن کے ایک سینئر عہدیدار نے اس نمائندے کو بتایا کہ قطر اپنے پاکستان کے ساتھ کیے گئے طویل المدتی معاہدوں کے تحت ’’نان پرفارمنس ڈلیوری‘‘ (این پی ڈی) کی شق کے تحت پاکستان کی درخواست کردہ 29 کارگوز میں سے 24 کو منتقل کرے گا۔

این ڈی پی شق کے تحت، اگر ایک منتقل شدہ کارگو بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستان کے طے شدہ معاہدے کی شرح سے زیادہ قیمت حاصل کرتا ہے، تو تمام منافع قطر کو جائے گا تاہم، اگر کارگو معاہدے کی قیمت سے کم پر فروخت ہوتا ہے، تو اس نقصان کو پاکستان اسٹیٹ آئل کو برداشت کرنا پڑے گا۔

اسی دوران ای این آئی کمپنی پاکستان ایل این جی لمیٹڈکے ساتھ ایک باہمی بات چیت سے طے شدہ سمجھوتے کے تحت 11 کارگوز کو منتقل کرے گی۔

ای این آئی کے ساتھ طے پانے والے سمجھوتے کے تحت، اگر کارگو طے شدہ قیمت سے زیادہ پر فروخت ہوتا ہے تو منافع باہم تقسیم کیا جائے گا، اور اگر یہ طے شدہ شرح سے کم پر فروخت ہوتا ہے تو نقصان بھی باہم بانٹا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں