عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں فالج کے حملوں میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق فالج ایک سنگین قلبی عارضہ ہے اور دنیا بھر میں اموات کی تیسری بڑی وجہ ہے، اس کے تباہ کن نتائج ہو سکتے ہیں، جن میں جسم یا مختلف اعضاء کا مفلوج ہو جانا اور ذہنی کمزوری شامل ہیں۔
اگرچہ تاریخی طور پر یہ مرض زیادہ عمر کے بالغ افراد کو متاثر کرتا رہا ہے، مگر تازہ ترین تحقیق کے مطابق نوجوانوں میں اس کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ رجحان تشویشناک ہے اور اس کی وجوہات سمجھنا ضروری ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق فالج اس وقت ہوتا ہے جب دماغ کو خون کی سپلائی منقطع ہو جاتی ہے، جس سے دماغی خلیات آکسیجن اور غذائی اجزاء سے محروم ہو جاتے ہیں، اس کے نتیجے میں خلیات کی موت اور معذوری ہو سکتی ہے۔
2021ء میں فالج دل کی اسکیمک بیماری اور کووڈ 19 کے ساتھ عالمی سطح پر اموات کی بڑی وجوہات میں شامل تھا، اب بھی دنیا بھر میں تقریباً 10 میں سے 1 شخص فالج سے مرتا ہے۔
امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کی جانب سے جاری کردہ حالیہ رپورٹ میں اس حوالے سے تشویشناک رجحان پایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2013ء سے 2019ء کے درمیان 45 سے 64 سال کی عمر کے امریکیوں میں فالج سے ہونے والی اموات میں 19 فیصد اضافہ ہوا۔
جرنل دی لینسیٹ نیورولوجی کے نئے مطالعے نے اس کی تصدیق کی ہے جس میں پایا گیا ہے کہ 70 سال سے زیادہ عمر کے بالغوں میں فالج کی شرح میں کمی آئی ہے، لیکن نوجوان بالغوں خاص طور پر 55 سال سے کم عمر افراد میں فالج کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔
سی ڈی سی کے مطالعے کی مرکزی مصنفہ ڈاکٹر اوموی ایمویسیلی کا کہنا ہے کہ یہ جاننا ضروری ہے کہ فالج کسی بھی عمر میں ہو سکتا ہے، 18 سے 44 سال کی عمر کے افراد میں فالج کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

