ہاؤسنگ فراڈ روکنے کیلئے نیب اصلاحات، خریدار سوسائٹی کی قانونی حیثیت فوراً معلوم کرسکے گا

0

اسلام آباد قومی احتساب بیورو (نیب) نے ایک ’’ڈیجیٹل ون کلک ڈسکلوژر‘‘ نظام کی تجویز دی ہے جس کے ذریعے کوئی بھی شخص کسی ہاؤسنگ اسکیم کی قانونی حیثیت، اس کے منظور شدہ لے آؤٹ پلان اور کسی مخصوص پلاٹ کے وجود کی فوری تصدیق کر سکے گا۔

شہریوں کے ساتھ نجی ہاؤسنگ اور کوآپریٹو سوسائٹیز کی جانب سے بڑے پیمانے پر ہونے والے فراڈ کے پیش نظر، نیب راولپنڈی نے 4؍ نکاتی اصلاحاتی ایجنڈا تیار کیا ہے جس کا مقصد نجی ہاؤسنگ سیکٹر میں پھیلے فراڈ اور بے ضابطگیوں کا خاتمہ کرنا ہے۔

ابتدائی طور پر یہ اصلاحات اسلام آباد اور راولپنڈی میں نافذ کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، جہاں 90 ہزار سے زائد شہری اپنے اُن کھربوں روپے سے محروم ہوئے جو انہوں نے ایسے پلاٹس کی ادائیگی کیلئے جمع کرائے تھے جو سرے سے موجود ہی نہیں۔

وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس، کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور راولپنڈی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) کے ساتھ شیئر کی گئی ان اہم اصلاحات میں عملدرآمد کیلئے جو تجاویز پیش کی گئی ہیں، ان میں درج ذیل باتیں شامل ہیں:

الف) ایک مرکزی آن لائن پورٹل کا قیام جہاں تمام ریگولیٹر سے منظور شدہ لے آئوٹ پلان (LOPs) شائع کیے جائیں گے تاکہ عوام کسی بھی اسکیم کے دعووں کی خود تصدیق کر سکیں۔

ب) ہر منظور شدہ پلاٹ کیلئے محفوظ، کیو آر یا بار کوڈ والے الاٹمنٹ لیٹر جاری کرنا جو آفیشل ڈیٹا بیس سے منسلک ہوں تاکہ حد سے زیادہ فروخت (اوور سیل) کی روک تھام ہو سکے۔

ج) ہر منصوبے کیلئے ایک لازمی ایسکرو اکاؤنٹ قائم کیا جائے جس کی نگرانی کسی تیسرے فریق کے ذریعے ہو تاکہ عوام کا سرمایہ صرف ترقیاتی کاموں پر خرچ ہو۔

د) امینٹی پلاٹس کی غیر قانونی فروخت کو قابلِ سزا فوجداری جرم قرار دینا چاہیے اور اس پر سخت سزائیں نافذ کی جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں