پی ٹی آئی کے 13 کارکنوں کی رہائی کا حکم

0

لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کارکنان کی نظر بندی کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے کارکنوں کی رہائی کا حکم جاری کر دیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے 13 کارکنان کی غیر قانونی نظر بندی کے خلاف دائر درخواست منظور کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ننکانہ کے جاری کردہ نظر بندی کے احکامات کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کا ملاقات سے انکار ، سہیل آفریدی واپس چلے گئے

جسٹس فاروق حیدر نے سہیل منظور کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کے وکہل ملک احد اعوان نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈی سی ننکانہ نے 21 نومبر کو قانون اور اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے 13 سیاسی کارکنان کی غیر قانونی نظر بندی کے احکامات جاری کیے تھے۔

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ سیاسی کارکنان کی اس نوعیت کی نظر بندی نہ صرف خلافِ قانون ہے بلکہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین نے پہلا حکم جاری کردیا

سرکاری وکیل نے بتایا کہ حکومت مخالف کارروائی کے خدشے کے پیش نظر نظر بندی کا حکم جاری کیا گیا تھا، جس پر عدالت نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے نظر بندی کے تمام احکامات منسوخ کرکے کارکنوں کی رہائی کا حکم دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں