ناسا کی حیران کن دریافت، مریخ پر ’منی لائٹننگ‘ کا سراغ مل گیا

0

ناسا کو اپنی حیران کن دریافت میں مریخ پر ’مِنی لائٹننگ‘ کا سراغ مل گیا۔

ناسا کے پرسویئرنس روور نے پہلی بار یہ ثبوت حاصل کرلیا کہ مریخ کا ماحول برقی سرگرمی رکھتا ہے، روور نے گرد و غبار کے بگولوں (ڈَسٹ ڈیولز) سے منسلک ایسی برقی خارجیاں ریکارڈ کی ہیں جنہیں سائنس دانوں نے ’منی لائٹننگ‘ قرار دیا ہے۔

2021ء سے مریخ کے جی زیرو کریٹر میں تحقیق کرنے والا یہ چھ پہیوں والا روور اپنی سپر کیم ریموٹ سینسنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے آڈیو اور الیکٹرومیگنیٹک سگنلز ریکارڈ کر رہا ہے، جس میں یہ برقی چارجز پہلی بار واضح طور پر سامنے آئے ہیں۔

تحقیقی مطالعے کے مرکزی مصنف اور فلکیاتی ماہر شیڈے کے مطابق یہ دریافت مریخ کی فضا، موسم، گرد اور مستقبل میں انسان یا روبوٹ کی موجودگی سے متعلق اہم سوالات کے جوابات فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ یہ برقی سرگرمی مریخ پر چلنے والے روبوٹک مشنز اور مستقبل کے انسانی مشنز کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔

محققین نے روور کے دو سالوں کے دوران ریکارڈ کی گئی 28 گھنٹے کی آڈیو کا تجزیہ کیا جس میں 55 برقی خارجیاں سامنے آئیں، زیادہ تر یہ واقعات ڈسٹ ڈیولز یا دھول کے طوفان کے دوران پیش آئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں