حقائق:
اسلام آباد: سپریم کورٹ کے باہر پاکستان تحریک انصاف کے ارکانِ پارلیمنٹ نے احتجاج کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے اور اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔
احتجاج میں شریک اراکین نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو ذاتی معالجین سے طبی معائنہ کرانے کی اجازت دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتی کارروائی میں تاخیر سے انصاف کے تقاضے متاثر ہو رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کے جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رجسٹرار سپریم کورٹ سے ملاقات نہیں ہو سکی اور پارلیمنٹیرینز عدالت کے باہر دھرنا دیے انصاف کے منتظر ہیں۔ ان کے مطابق وہ سپریم کورٹ کے باہر اس لیے موجود ہیں تاکہ مقدمات سماعت کے لیے مقرر کیے جائیں۔
پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان نے کہا کہ عمران خان کو آنکھ کے علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ عدالت کی جانب سے مقرر کردہ فرینڈ آف کورٹ کی رپورٹ پر کیا پیش رفت ہوئی۔
پس منظر:
عمران خان مختلف مقدمات میں زیرِ حراست ہیں، جبکہ ان کی جماعت کی جانب سے قانونی اور سیاسی سطح پر مختلف اقدامات جاری ہیں۔ سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت مقدمات کے حوالے سے سماعت کی تاریخوں اور طریقہ کار پر بحث جاری ہے۔
اہم نکات:
سپریم کورٹ کے باہر احتجاج
مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ
اہلِ خانہ اور ذاتی معالجین سے ملاقات کی درخواست
عدالتی کارروائی میں تاخیر پر اعتراض
متوقع پیش رفت:
قلیل مدتی:
رجسٹرار آفس یا عدالت کی جانب سے ردعمل کا امکان۔
درمیانی مدتی:
مقدمات کی سماعت کے لیے نئی تاریخ مقرر ہونے کا امکان۔
طویل مدتی:
قانونی کارروائی اور سیاسی دباؤ کے درمیان توازن پر اثرات۔

