ٹیکنالوجی کی دنیا برق رفتاری سے بدل رہی ہے۔ جو ایجادات چند سال پہلے ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ تھیں، وہ اب کم ہوتی جارہی ہیں، اور جو سہولیات آج عام ہیں، وہ مستقبل میں نئی ٹیکنالوجی سے تبدیل ہو سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق 2030 تک کئی موجودہ ٹیکنالوجیز کی جگہ مزید جدید اور خودکار سسٹمز لے لیں گے۔ آنے والے برسوں میں بائیومیٹرک لاگ اِن پاس ورڈز کی جگہ لے سکتے ہیں، جبکہ ڈیجیٹل والیٹس اور اسمارٹ لاکس پلاسٹک کارڈز اور روایتی چابیوں کو پیچھے چھوڑ دیں گے۔
نقد رقم، تاروں والے آلات اور کاغذی رسیدوں کے بجائے وائرلیس نظام، کانٹیکٹ لیس ادائیگیاں اور کلاؤڈ سروسز زیادہ استعمال ہوں گی۔
اسی طرح اسٹریمنگ کی مقبولیت اور صاف توانائی کی ترقی کے باعث ٹی وی چینلز اور پیٹرول پر چلنے والی گاڑیاں بھی اپنی اہمیت کھوتی نظر آئیں گی۔
دبئی میں جدید ٹیکنالوجی اور روبوٹکس والا دنیا کا سب سے شاندار اسکول
کلاؤڈ اسٹوریج کے زیادہ تیز، محفوظ اور قابلِ اعتماد بننے سے ایکسٹرنل ہارڈ ڈرائیوز کا استعمال بھی بتدریج کم ہوتا جائے گا۔ یوں آنے والی دہائی مکینیکی دور کے خاتمے اور مکمل ڈیجیٹل زمانے کے آغاز کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

