حقائق:
واشنگٹن / تل ابیب: امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اس ہفتے کے اختتام تک ایران کے خلاف ممکنہ عسکری کارروائی کر سکتا ہے، تاہم Donald Trump نے تاحال اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
رپورٹس کے مطابق امریکی حکام عسکری اور سیاسی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ صدر ٹرمپ بھی ممکنہ نتائج اور علاقائی ردعمل پر غور کر رہے ہیں۔ میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی افواج خطے میں ہائی الرٹ پر ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
دوسری جانب ممکنہ امریکی حملے کے خدشے کے پیش نظر اسرائیل میں سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ شہریوں کو بنکرز کے قریب رہنے اور ہنگامی ہدایات پر عمل کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اسرائیلی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکی کارروائی کی صورت میں ایران میزائل حملوں سے جواب دے سکتا ہے۔
پس منظر:
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ اور پابندیوں کے معاملات پر مسلسل برقرار ہے، جس کے باعث خطے میں غیر یقینی صورتحال بڑھتی جا رہی ہے۔
پوشیدہ پہلو:
عسکری ماہرین کے مطابق کسی بھی محدود کارروائی کے وسیع علاقائی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، جس سے خلیجی ریاستوں اور عالمی توانائی منڈیوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
ممکنہ اثرات:
قلیل مدتی: مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ
درمیانی مدتی: عالمی تیل قیمتوں میں اتار چڑھاؤ
طویل مدتی: علاقائی سیکیورٹی توازن میں تبدیلی

