نئے اسلام آباد ائرپورٹ، حیدرآباد اور سکھر الیکٹرک سپلائی کمپنیز کے لیے نجکاری کمیٹیاں تشکیل دے دی گئیں۔

0

حقائق:
نیو اسلام آباد ائیرپورٹ، حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی اور سکھر الیکٹرک سپلائی کمپنی کی نجکاری کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی کی زیرصدارت نجکاری کمیشن بورڈ کا اجلاس ہوا، جس میں ٹرانزیکشن کمیٹی قائم کی گئی تاکہ حیدرآباد اور سکھر الیکٹرک سپلائی کمپنیوں کی نجکاری کے عمل کو منظم کیا جا سکے۔

بورڈ نے ہاؤس بلڈنگ فائنانس کمپنی کی نجکاری کا موجودہ عمل ختم کرنے کی سفارش کی اور اس کے 51 فیصد حصص کی دوبارہ نیلامی شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔
پاکستان مورگیج ری فائنانس کمپنی کی 4.2 ارب کی بولی مسترد کی گئی جبکہ اس کی ریفرنس قیمت 13.55 ارب روپے تھی۔

نجکاری بورڈ نے اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو نجکاری پروگرام میں شامل کرنے کی سفارش کی، اور نیو اسلام آباد ائیرپورٹ کے لیے کنسیشن ماڈل اپنانے کا فیصلہ کیا۔
حکومت ٹو گورنمنٹ ماڈل مسترد کر کے اوپن بولی کے ذریعے ائیرپورٹ کی نجکاری کی راہ ہموار کی گئی۔

پوشیدہ پہلو:
یہ اقدامات حکومت کی نجکاری اور اقتصادی اصلاحات کے پروگرام کے مطابق ہیں۔
اوپن بولی کے ذریعے نجکاری عمل میں شفافیت اور سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھانے کا مقصد ہے۔
حیدرآباد اور سکھر الیکٹرک سپلائی کمپنیوں کی نجکاری سے توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور کارکردگی بہتر ہونے کی توقع ہے۔

پاکستان اور خطہ جنوب پر اثرات:
سرمایہ کاروں کو نجکاری کے مواقع ملنے سے اقتصادی سرگرمیاں اور مالی استحکام بڑھ سکتا ہے۔

بجلی کی ترسیل اور ائیرپورٹ کے انتظامات میں کارکردگی اور سروس معیار بہتر ہو سکتا ہے۔

عوامی اور نجی شعبے میں اعتماد اور شراکت داری میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

متوقع نتائج:
قلیل مدتی: نجکاری کمیٹیوں کی تشکیل اور بولیوں کے عمل کا آغاز۔

درمیانی مدتی: نجکاری کے ذریعے سرمایہ کاری اور آمدنی میں اضافہ، بجلی اور ایئرپورٹ سروس میں بہتری۔

طویل مدتی: اقتصادی اصلاحات اور نجکاری کے منصوبے ملکی معیشت میں استحکام اور ترقی کے لیے معاون ثابت ہوں گے۔

References:
Dawn – Privatization of airports and electric supply companies

The Express Tribune – Privatization commission approves new committees

Geo News – Open bidding for Islamabad airport concession

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں