عرب دنیا میں پاکستان کی دفاعی سفارتکاری میں توسیع سعودی عرب، ترکی اور سوڈان کے ساتھ سہ فریقی معاہدے پر بات چیت

0

حقائق:

پاکستان: پاکستان نے عرب دنیا میں اپنی دفاعی سفارتکاری کو وسعت دیتے ہوئے سعودی عرب، ترکی اور سوڈان کے ساتھ سہ فریقی دفاعی تعاون کے امکانات پر مشاورت شروع کر دی ہے۔ اس اقدام کو خطے میں سیکیورٹی تعاون اور اسٹریٹجک ہم آہنگی بڑھانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق بات چیت میں مشترکہ تربیت، دفاعی پیداوار، انٹیلی جنس شیئرنگ اور انسدادِ دہشت گردی تعاون جیسے شعبے زیرِ غور آئے۔ پاکستان نے خطے میں امن و استحکام کے لیے کثیرالجہتی تعاون کی اہمیت پر زور دیا اور دفاعی صلاحیتوں میں اشتراک کو باہمی مفاد قرار دیا۔

سفارتی مبصرین کے مطابق یہ مشاورت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں سلامتی کے چیلنجز، بحری راستوں کا تحفظ اور دفاعی خودکفالت عالمی ایجنڈے پر نمایاں ہیں۔ پاکستان کی جانب سے سہ فریقی فریم ورک پر زور علاقائی تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کی کوشش سمجھا جا رہا ہے۔

پوشیدہ پہلو:

تجزیہ کاروں کے مطابق سہ فریقی معاہدہ دفاعی صنعتی تعاون اور آپریشنل ہم آہنگی کو تیز کر سکتا ہے، تاہم کامیابی کا انحصار پالیسی ہم آہنگی، ریگولیٹری وضاحت اور طویل مدتی اعتماد سازی پر ہوگا۔

پاکستان اور خطے پر اثرات:

عرب دنیا میں دفاعی روابط کی توسیع سے پاکستان کی اسٹریٹجک رسائی بڑھے گی اور مشترکہ سلامتی اقدامات کو تقویت ملے گی۔ اس کے نتیجے میں جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان دفاعی تعاون کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔

متوقع نتائج:

قلیل مدتی: دفاعی مذاکرات، تکنیکی ورکنگ گروپس اور اعتماد سازی کے اقدامات۔
درمیانی مدتی: مشترکہ تربیت، دفاعی پیداوار اور تعاون کے معاہدے۔
طویل مدتی: علاقائی سلامتی فریم ورک میں پاکستان کا مضبوط کردار اور پائیدار شراکت داری۔

:References
https://www.dawn.com
https://www.reuters.com
https://www.aljazeera.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں