حقائق:
کراچی: دنیا بھر میں رواں سال کا پہلا سورج گرہن آج ہوگا، تاہم پاکستان میں اس کا نظارہ ممکن نہیں ہوگا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گرہن افریقا اور جنوبی امریکا کے بعض حصوں میں دیکھا جا سکے گا، جبکہ بحراوقیانوس، بحرالکاہل اور بحیرۂ ہند کے علاقوں میں جزوی سورج گرہن ہوگا۔
ماہرین کے مطابق “رِنگ آف فائر” یعنی حلقہ نما سورج گرہن صرف انٹارکٹیکا میں نظر آئے گا، جہاں سورج کا مرکزی حصہ چاند سے ڈھک جائے گا اور کناروں پر روشنی کا دائرہ باقی رہے گا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق گرہن کا آغاز پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر 2 بج کر 56 منٹ پر ہوگا، شام 5 بج کر 12 منٹ پر عروج پر پہنچے گا اور اختتام شام 7 بج کر 28 منٹ پر ہوگا۔
فلکیاتی پس منظر:
سورج گرہن اس وقت ہوتا ہے جب چاند زمین اور سورج کے درمیان آ کر سورج کی روشنی کو جزوی یا مکمل طور پر ڈھانپ لیتا ہے۔ رواں برس مجموعی طور پر دو سورج اور دو چاند گرہن متوقع ہیں۔
پوشیدہ پہلو:
فلکیاتی ماہرین کے مطابق سورج گرہن کا مشاہدہ ہمیشہ خصوصی حفاظتی چشموں کے ذریعے کرنا چاہیے تاکہ آنکھوں کو نقصان نہ پہنچے۔
متوقع نتائج:
قلیل مدتی: عالمی سطح پر فلکیاتی دلچسپی میں اضافہ
درمیانی مدتی: سائنسی مباحث اور مشاہداتی سرگرمیاں
طویل مدتی: عوام میں فلکیات سے متعلق آگاہی میں اضافہ

