بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے بینک لاکرز سے تقریباً دس کلو سونا برآمد ہوا، سونا اُن لاکرز سے ملا جو ستمبر میں ضبط کیے گئے تھے۔
تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے منجمد بینک لاکرز سے 10 کلوگرام سونا برآمد ہوا ہے، جس کی مالیت تقریباً تیرہ لاکھ ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ سونا اُن لاکرز سے ملا جو ستمبر میں ضبط کیے گئے تھے۔
عدالت کے حکم پرجب یہ لاکرز کھولے گئے توان میں سونے کا ڈھیر تھا، جس میں سونے کے سکے اور زیورات شامل تھے۔
رپورٹس میں بتایا گیا کہ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے شیخ حسینہ کے دورِ حکومت میں ہونے والی مبینہ کرپشن، اختیارات کے غلط استعمال اور انسانیت کے خلاف جرائم کی جامع تحقیقات کا آغاز کر رکھا ہے۔
شیخ حسینہ کے بھارت فرار ہونے کے بعد حکام نے ان کی جائیداد، بینک کھاتوں اور مالی اثاثوں کی تفصیلات کا جائزہ لینا شروع کیا۔
شیخ حسینہ نے اپنے دور حکومت میں ملنے والے کئی تحفے بھی توشہ خانہ میں جمع نہیں کرائے تھے جبکہ انھوں نے ٹیکس گوشواروں میں اس سونے کا ذکر کیا تھا یا نہیں، اس حوالے سے ٹیکس بورڈ نے تحقیقات شروع کردی ہے۔
نیشنل بورڈ آف ریونیو (NBR) نے 10 ستمبر کو پولی بینک کے لاکر نمبر 128 سمیت ان کے تمام بینک اکاؤنٹس، مشترکہ کھاتوں اور ڈپازٹ اکاؤنٹس کو منجمد کر دیا تھا۔ بعد ازاں 17 ستمبر کو اَگرانی بینک کے دو مزید لاکرز کی تلاشی کے دوران 10 کلو سونا ملا۔
یہ کارروائی عبوری حکومت کی اُس مہم کا حصہ ہے جس کے تحت سابق حکمرانوں کی مبینہ کرپشن اور غیرقانونی اثاثوں کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔،2024 کی ملک گیر طلبہ تحریک کے بعد شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا، جس میں سیکڑوں افراد ہلاک ہونے کی رپورٹس سامنے آئیں۔
یاد رہے نومبر کے شروع میں انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل نے طلبہ کی زیر قیادت احتجاج کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کے الزام میں حسینہ واجد کو موت کی سزا سنائی تھی۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق اس کریک ڈاؤن میں تقریباً 1400 افراد ہلاک ہوئے جب حسینہ اقتدار پر قابض رہنے کی کوشش کر رہی تھیں۔

