حقائق:
اسلام آباد: وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سینیٹ میں پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے پر متفق ہو گیا تھا اور مذاکرات میں مثبت پیشرفت کے باوجود اس پر حملہ کیا گیا۔
ایوانِ بالا میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کامیابی سے آگے بڑھ رہے تھے، جس میں عمان ثالث کا کردار ادا کر رہا تھا۔ ان کے مطابق امید کی جا رہی تھی کہ معاملہ سفارتی سطح پر حل ہو جائے گا، تاہم اسی دوران ایران پر حملہ کر دیا گیا۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایران پر حملے کی کھلے الفاظ میں مذمت کی اور جوہری توانائی کے پُرامن استعمال کے حق کی حمایت کی۔ ان کے مطابق امریکا ایران کے ایٹمی پروگرام کے مکمل خاتمے کا خواہاں تھا جبکہ پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ ایران کو پُرامن جوہری پروگرام جاری رکھنے کا حق حاصل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی جس میں اس معاملے پر بات چیت کی گئی۔ اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ثالثی کے لیے بھی تیار تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل میں پاکستان نے واضح طور پر ایران پر حملے کی مذمت کی اور سفارتی حل پر زور دیا۔ ان کے بقول ایران میں پارلیمانی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو سراہا گیا۔
پس منظر:
امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر جاری مذاکرات کئی ماہ سے عالمی توجہ کا مرکز تھے۔ حالیہ حملوں کے بعد سفارتی عمل تعطل کا شکار ہو گیا ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
اہم نکات:
ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے پر آمادہ تھا
مذاکرات میں عمان ثالث کا کردار
پاکستان کی جانب سے حملے کی مذمت
سفارتی حل اور ثالثی کی پیشکش
ممکنہ اثرات:
قلیل مدتی:
سفارتی سطح پر کشیدگی اور بیانات میں شدت۔
درمیانی مدتی:
مذاکراتی عمل کی بحالی یا تعطل۔
طویل مدتی:
خطے میں جوہری پالیسی اور سفارتی توازن پر اثرات۔

