حقائق:
کابل سے موصولہ اطلاعات کے مطابق افغان کرکٹر Mohammad Nabi اور ان کے بیٹے حسن عیسیٰ خیل نے بنگلادیش پریمیئر لیگ (BPL) میں ایک ہی ٹیم کی نمائندگی کی۔
دونوں باپ بیٹے نے نوکھالی ایکسپریس کی جانب سے کھیلتے ہوئے چوتھی وکٹ کے لیے 53 رنز کی شراکت قائم کی۔
میچ کے دوران:
19 سالہ حسن عیسیٰ خیل نے 60 گیندوں پر 92 رنز کی شاندار اننگز کھیلی
محمد نبی اور ان کے بیٹے کی جوڑی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی تاریخ میں ایک ہی ٹیم سے کھیلنے والی پہلی باپ بیٹے کی جوڑی بن گئی
تاریخی پس منظر:
کرکٹ ماہرین کے مطابق اگرچہ ماضی میں مختلف کھیلوں میں باپ بیٹے ایک ہی سطح پر نظر آئے، تاہم ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ایک ہی ٹیم سے کھیلنا ایک غیر معمولی اور تاریخی واقعہ ہے۔
یہ کارنامہ افغان کرکٹ کی ترقی اور نئی نسل کی شمولیت کی عکاسی کرتا ہے۔
محمد نبی کا ردِعمل:
میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے محمد نبی نے کہا کہ:
اپنے بیٹے کے ساتھ کھیلنا ان کے لیے خوشی اور فخر کا باعث ہے
وہ کافی عرصے سے اس لمحے کے منتظر تھے
میچ سے ایک دن قبل انہوں نے تقریباً 90 منٹ بیٹے کے ساتھ تیاری کی
بیٹے کو بتایا کہ کن طرح کی گیندوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے
انہوں نے کہا کہ حسن عیسیٰ خیل نے ڈیبیو پر عمدہ کارکردگی دکھا کر ان کی توقعات پر پورا اترا۔
حسن عیسیٰ خیل کا مؤقف:
حسن عیسیٰ خیل کا کہنا تھا کہ:
ان کے اور والد کے درمیان دوستانہ تعلق ہے
ٹریننگ کے دوران والد سختی ضرور کرتے ہیں
افغانستان کی قومی ٹیم کی نمائندگی کرنا ان کا سب سے بڑا خواب ہے
میچ کا نتیجہ:
اس تاریخی مقابلے میں نوکھالی ایکسپریس نے ڈھاکا کیپیٹلز کو 41 رنز سے شکست دی، جبکہ حسن عیسیٰ خیل کی اننگز میچ کی نمایاں جھلک قرار دی گئی۔
اختتامی سطر:
محمد نبی اور ان کے بیٹے کی ایک ہی ٹیم میں شمولیت نہ صرف افغان کرکٹ کے لیے فخر کا لمحہ ہے بلکہ یہ واقعہ عالمی کرکٹ میں خاندانی وراثت اور نئی نسل کے اعتماد کی ایک مضبوط مثال بھی بن گیا ہے۔
:References
https://www.espncricinfo.com
https://www.bplt20.com
https://cricket.af

